ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 33 فیصد ہندو مسلمانوں کو مانتے ہیں سچے دوست:سروے میں ہواخلاصہ

33 فیصد ہندو مسلمانوں کو مانتے ہیں سچے دوست:سروے میں ہواخلاصہ

Thu, 06 Apr 2017 11:59:48    S.O. News Service

نئی دہلی 5؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈویلپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس ) نے ایک سروے میں یہ پایا کہ مختلف کمیونٹیز کے لوگ دوستی کے رشتے بناتے وقت مذہبی مفاد دیکھتے ہیں۔ سروے کے مطابق، 91 فیصد ہندوؤں کے نزدیکی دوست ان کی اپنی کمیونٹی سے ہوتے ہیں، تاہم ان میں سے 33 فیصد کے نزدیکی دوست مسلم کمیونٹی سے بھی ہیں۔ وہیں، 74 فیصد مسلمانوں کا ہندوؤں سے بھی قریبی رشتہ ہے، جبکہ 95 فیصد کے قریبی دوست یکساں کمیونٹی کے ہی ہیں۔ سی ایس ڈی ایس نے پایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں زیادہ تر نے اپنے ہی برادری سے قریبی دوست بنائے۔سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گجرات، ہریانہ، کرناٹک اور اڑیسہ میں مسلم کمیونٹی الگ تھلگ رہنا پسند کرتا ہے۔ مطالعہ کا حصہ بنے ہندوؤں میں سے 13 فیصد کا خیال ہے کہ مسلم کمیونٹی کے لوگ بہت محب وطن ہوتے ہیں، وہیں عیسائیوں کے لئے یہ اعداد و شمار مختلف ہے۔ 20 فیصد ہندو عیسائیوں کو محب وطن سمجھتے ہیں، سکھوں کے معاملے میں یہ اعداد و شمار 47 فیصد کا ہے، خود مسلمانوں کی مانیں تو 77 فیصد مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو بے حد محب وطن سمجھتے ہیں، وہیں 26 فیصد عیسائی ایسے ہیں جو مسلمانوں کو حب الوطن مانتے ہیں، سکھوں کی بات کریں تو محض 66 فیصد سکھ کو ہندوؤں میں بے پناہ حب الوطنی کا احساس نظر آتا ہے۔

سروے کے مطابق ایک طرف جہاں تین چوتھائی مسلمانوں کے قریبی دوستوں میں ہندو ہیں، ہندوؤں میں یہ اعداد و شمار ایک تہائی کا ہے، یعنی ایک تہائی ہندو ایسے ہیں، جن کے قریبی دوستوں میں مسلم بھی ہیں، ان سے مختلف مسیحی برادری کے لوگوں کی دوسرے مذاہب کے لوگوں سے دوستی کرنے میں شاید دلچسپی نہیں، لیکن اگر مقابلہ کیا جائے تو مسلمانوں کے مقابلے میں ان ہندوؤں سے زیادہ اچھے تعلقاتہیں۔سروے میں گائے کی عزت کو لے کر حکومت کے رخ، عوامی پروگراموں میں بھارت ماتا کی جے بولے جانے، گوشت کھانے، قومی ترانہ کے وقت کھڑے ہوکر احترام دئے جانے، وغیرہ کو لے کر کئے گئے سوالوں پر بھی مختلف مذاہب کے لوگوں کی رائے جانی گئی۔


Share: